ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / معین قریشی منی لانڈرنگ معاملہ: ای ڈی نے کاروباری ستیش بابو کو کیا گرفتار، 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا 

معین قریشی منی لانڈرنگ معاملہ: ای ڈی نے کاروباری ستیش بابو کو کیا گرفتار، 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا 

Sat, 27 Jul 2019 22:53:56    S.O. News Service

نئی دہلی،27/جولائی (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) ای ڈی نے متنازعہ بیف تاجرمعین قریشی اور دیگر لوگوں کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں حیدرآباد کے کاروباری سناستیش بابو کو گرفتار کیا ہے۔بابو کے الزامات سے ہی گزشتہ سال سی بی آئی کے اعلیٰ افسران کے درمیان جنگ چھڑگئی تھی۔کاروباری کو پہلے اس معاملے میں گواہ کے طور پر بلایا گیا تھا لیکن اب اسے ملزم بھی بنایا گیا ہے۔حکام نے بتایاہے کہ بابوکومنی لانڈرنگ کی روک تھام قانون (پی ایم ایل اے) کی دفعات کے تحت ای ڈی نے گرفتار کیا۔انہوں نے بتایا ہے کہ بابوسے کچھ گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی گئی اور تحقیقات میں تعاون نہ کرنے پر اسے حراست میں لے لیا گیا۔ایجنسی کچھ مالی لین دین سمیت قریشی کے ساتھ اس کے رابطے کو مشتبہ مان رہی ہے اور اسی طرح وہ اس کوحراست میں لے کر پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے۔ ای ڈی نے قریشی کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا تھا جہاں سے اسے 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وہ رشوت کے ایک معاملے میں شامل ہے اور اس نے قریشی کو غیر قانونی طور پر پیسہ دیا ہے۔مرکزی تفتیشی بیورو نے ایجنسی میں نمبر ایک کی حیثیت رکھنے والے اس وقت کے سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما اور نمبر دو مانے جانے والے راکیش استھانہ کے درمیان رشہ کشی کے دوران بابو کی ہی شکایت پر اپنے سابق خصوصی ڈائریکٹر استھانہ کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر مجرمانہ ایف آئی آر درج کی تھی۔بابو نے ایک مجسٹریٹ کے سامنے مجرمانہ پینل کوڈ (سی آر پی سی) کی دفعہ 164 کے تحت بیان درج کرایا تھا جس کے بعد سی بی آئی نے استھانہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔سی بی آئی کو دیے اپنے بیان میں بابو نے کہا تھا کہ اس نے قریشی کے ساتھ منسلک تحقیقات میں کسی طرح کی کارروائی نہ کرنے کے لئے استھانہ کو دو کروڑ روپے کی رشوت دی تھی۔یہ فنڈز رقم دسمبر 2017 سے لے کر 10 ماہ کی مدت میں دی گئی۔بابو نے جب استھانہ پر رشوت لینے کا الزام لگایا تھا تب استھانہ کی قیادت میں سی بی آئی کی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) اس سے پوچھ گچھ کر رہی تھی۔ بابو کی شکایت پر نوٹس لیتے ہوئے سی بی آئی نے استھانہ اور ایجنسی کے کچھ افسران سمیت دیگر لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔بعد میں استھانہ نے اس وقت کے سی بی آئی ڈائریکٹر ورما پر بدعنوانی کا الزام لگایا تھا اور بابو کو بچانے اور ایس آئی ٹی کو اس کے خلاف کارروائی نہ کرنے دینے کاالزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف ایک شکایت درج کرائی۔اس وقت حکومت کے ذرائع نے بتایا تھا کہ استھانہ نے گزشتہ سال 24 اگست کو کابینہ سیکرٹری کو لکھے ایک خط میں ورما کی طرف سے مبینہ بدعنوانی کے 10 مقدمات کی فہرست دی گئی تھی۔اس خط میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ بابو نے اس معاملے میں کلین چٹ حاصل کرنے کے لئے سی بی آئی سربراہ کو دو کروڑ روپے دیے تھے۔استھانہ اور ورما دونوں نے الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔ای ڈی نے سرکاری حکام کے ساتھ ملی بھگت کرکے مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں منی لانڈرنگ کی روک تھام قانون کے تحت قریشی کے خلاف 2017 میں مقدمہ درج کیا تھا۔اس نے تحقیقات کے طور پر قریشی کو گرفتار بھی کیا تھا اور اس کی املاک ضبط کی تھی۔ای ڈی اس معاملے میں سابق سی بی آئی ڈائریکٹر اے پی سنگھ کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔


Share: